مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ کے اخراجات میں اضافے سے سعودی عرب کا بجٹ خسارہ بڑھ گیا ہے اور ملک کو معاشی کساد بازاری کا خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ نے سعودی عرب کے سیاحتی منصوبوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ رواں سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں غیر ملکی سرمایہ کاری توقعات سے کم رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بن سلمان کے متعدد منصوبے روک دیے گئے ہیں اور ریاض نے 2029 کے ایشیائی سرمائی کھیلوں کی میزبانی کی تیاریاں بھی ترک کر دی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے مزید کہا کہ سعودی حکام کے مطابق، مزید حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں۔ سعودی عرب اپنے پورے رقبے کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، اس لیے اسے اپنے دفاعی وسائل محلات اور توانائی کی تنصیبات کی حفاظت پر مرکوز کرنا پڑ رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے مشیروں کو ایران کے ساتھ سیاسی رابطوں کے ذرائع کھلے رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اخبار کے مطابق، بن سلمان سخت حفاظتی انتظامات اور زیر زمین پناہ گاہوں سے لیس محلات کے درمیان نقل و حرکت کر رہے ہیں، جبکہ ان محلات کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کا انتخاب بھی انتہائی احتیاط سے کیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ